ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مصری یونیورسٹی کے سربراہ نے خاتون نیوز کاسٹر کو جھڑک دیا

مصری یونیورسٹی کے سربراہ نے خاتون نیوز کاسٹر کو جھڑک دیا

Mon, 20 Mar 2017 21:26:17    S.O. News Service

 قاہرہ،20مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مصر میں ’ڈی ایم سی‘ ٹی وی چینل کی ایک خاتون نیوز اینکر کو اس وقت سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک یونیورسٹی میں طلبہ کے درمیان ہونے والے تصادم پر بات کرنے کے لیے اس یونیورسٹی کے ریکٹر کو ٹیلیفون کیا۔ نیوز اینکر ایمان الحصری کی جانب سے لائیو بیپر کے لیے رابطہ کرنے پر ’جامعہ 6 اکتوبر‘ کے ریکٹر ڈاکٹر احمد عطیہ نے نہ صرف اسے جھڑک دیا بلکہ کہا کہ رات گیارہ بجے فون کر کے اس کی نیند میں خلل کیوں پیدا کیا گیا۔
ایمان الحصری نے ڈاکٹر عطیہ سے یونیورسٹی میں دن کو دو طلبہ گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم پر ان کی رائے معلوم کی تو اس کے جواب میں ڈاکٹر عطیہ نے کہا کہ کسی سے رائے معلوم کرنے کا یہ کون سا وقت ہے۔ رات کے گیارہ بج رہے ہیں۔ میں گھر میں اکیلا ہوں اور بچے گھر سے باہر ہیں۔ میں نے فون کال اس خدشے کے تحت اٹینڈ کرلی کہ خدا نخواستہ اس کے بچوں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو۔ڈاکٹر العطیہ نے ٹی وی چینل کی اینکر کو کہا کہ جامعات میں طلبہ کے درمیان معمولی تنازعات چلتے رہتے ہیں۔ انہیں اچھالنے اور آدھی رات کو ان پر رائے لینے کا کوئی جواز نہیں۔اس پر ایمان الحصری نے معذرت کی اور کہا کہ وہ سمجھے تھے کہ معاملہ شاید زیادہ سنگین ہے۔ کیونکہ یہ اطلاعات ملی تھیں کہ جامعہ کی حدود میں دو طلباء  گروپوں نے اسلحہ کا استعمال کیا ہے۔ ڈاکٹر احمد عطیہ نے بات مکمل کیے بغیر ہی فون بند کردیا۔
 


Share: